صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۴ - اعتدال اور ہمیشہ کا عمل
اعتدال اور دوام عمل کی حدیث: کم مگر مسلسل نیکی
صحیح بخاری : ۶۴۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۶۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَدِّدُوا ، وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”درمیانی چال اختیار کرو اور بلند پروازی نہ کرو اور جان لو، تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں داخل کر سکے گا، اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درمیانی چال اختیار کرو، بلند پروازی نہ کرو، اور جان لو کہ تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے، خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث میں دو اہم باتیں ساتھ آئی ہیں: اللہ کی رحمت کا محتاج ہونا اور عمل میں اعتدال رکھنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل کی ضرورت نہیں، بلکہ عمل کو صحیح، قابل برداشت اور مستقل رکھنا چاہیے۔ بہت زیادہ شروع کر کے چھوڑ دینا مناسب نہیں۔ تھوڑا عمل جو جاری رہے، حدیث کے الفاظ کے مطابق اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمل میں اعتدال اختیار کرنا چاہیے۔
- جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت سے ہے، عمل پر غرور نہیں۔
- کم مگر مسلسل نیکی پسندیدہ ہے۔
- دینی کام اپنی طاقت کے مطابق کرنا چاہیے۔
