حدیث ۲۸۱۸
صحیح مسلم : ۲۸۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۱۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا " ، قَالَ : " مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ " ، قَالَ : " رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا ، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ ، حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ " ،
عبید بن جریج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے تم کو چار باتیں کرتے دیکھا ہے کہ تمہارے اور یاروں میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ کیا ہیں؟“ اے بیٹے جریج کے!“ انہوں نے کہا: اول تو میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم کعبہ کے کونوں میں سے طواف کے وقت ہاتھ نہیں لگاتے ہو مگر دو کونوں میں جو یمن کی طرف ہیں دوسرے تم نعال سبتی پہنتے ہو، تیسرے داڑھی رنگتے ہو زردی سے (یعنی زعفران و ورس وغیرہ سے) چوتھے جب تم مکہ میں ہوتے ہو تو لوگ چاند دیکھ کر لبیک پکارتے ہیں اور تم یوم الترویہ یعنی آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی لبیک پکارتے ہو۔ پس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ سنو ارکان کو تو میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوتے ہوں سوا ان کے جو یمن کی طرف ہیں اور نعال سبتی تو میں نے دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ ایسی نعل پہنتے تھے جس میں بال نہ ہوں اور اسی میں وضو کرتے تھے (یعنی وضو کر کے گیلے پیر میں اسی کو پہن لیتے تھے) سو میں بھی دوست رکھتا ہوں کہ اس کو پہنوں، رہی زردی تو میں نے دیکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اس سے رنگتے تھے (یعنی بالوں کو یا کپڑوں کو) تو میں دوست رکھتا ہوں کہ اس سے رنگوں اور لبیک سو میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری ہو مگر جب کہ اونٹنی آپ کو سوار کر کے اٹھی (یعنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس)۔
