صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۷ - غزوہ ذات الرقاع میں دو رکعت نماز خوف
غزوہ ذات الرقاع اور دو رکعت نماز خوف
صحیح بخاری : ۴۱۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲۷
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ , سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ , سَمِعْتُ جَابِرًا : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ , فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ " , وَقَالَ يَزِيدُ : عَنْ سَلَمَةَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ .
جابر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے (اچانک حملے کا) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۷ کا خلاصہ
یہ روایت غزوہ ذات الرقاع کا ایک واضح نقشہ دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم مقام نخل سے ذات الرقاع کی طرف نکلے، غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا، مگر جنگ نہیں ہوئی۔ پھر بھی دونوں طرف خطرہ موجود تھا، اس لیے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نماز خوف صرف اس وقت نہیں جب لڑائی شروع ہو چکی ہو، بلکہ متن کے مطابق خطرہ موجود تھا تو نماز خوف پڑھی گئی۔ یہاں ذات الرقاع کی حدیث، دو رکعت نماز خوف، غطفان، اور نماز خوف کا ذکر جیسے سرچ الفاظ اہم ہیں۔ آخر میں سلمہ بن اکوعؓ کے غزوہ ذو القرد میں شریک ہونے کا ذکر بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطرہ موجود ہو تو نماز خوف کا اہتمام کیا گیا۔
- اس روایت میں جنگ نہ ہونے کے باوجود خوف کی حالت بیان ہوئی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔
