صحیح مسلم حدیث ۴۷۰۱ - قریش کی سرداری اور خلافت
قریش کی سرداری اور خلافت کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِيَانِ الْحِزَامِيَّ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ عَمْرٌو : رِوَايَةً " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ لِكَافِرِهِمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تابع ہیں قریش کی سرداری میں۔ مسلمان ان کا قریش کے مسلمان کا تابع ہے اور کافر ان کا قریش کے کافر کا تابع ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام قریش کی سرداری اور خلافت کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں مسلمان، قریش کے مسلمان کے تابع ہیں، اور کافر، قریش کے کافر کے تابع ہیں۔ اس سے بات اتنی سمجھ آتی ہے کہ اس دور کے اجتماعی معاملے، قیادت اور دینی نظم میں قریش کو ایک خاص مقام دیا گیا۔ ہمیں اس متن سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے کوئی نئی شرط یا واقعہ نہیں ملانا چاہیے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو یہ حدیث بتاتی ہے کہ امت کے بڑے اجتماعی معاملات میں نظم، پہچان اور قیادت کی اہمیت ہے۔ قریش کی خلافت، قریش کی سرداری، اور اسلامی قیادت جیسے الفاظ اسی مفہوم سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں خلافت کے معاملے میں قریش کا خاص ذکر آیا ہے۔
- مسلمانوں اور کافروں کے تابع ہونے کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
- اجتماعی قیادت میں نظم اور پہچان کی بات سامنے آتی ہے۔
