صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۱ - دین کا قیام اور بارہ خلفاء

دین کا قیام، بارہ خلفاء اور اہم نصیحتیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۱۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ ، أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ ، يَقُولُ : " لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : عُصَيْبَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الْأَبْيَضَ ، بَيْتَ كِسْرَى أَوْ آلِ كِسْرَى ، وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ ، وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ، وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ " ،

عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت:

میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا اور نافع غلام کے ہاتھ بھیجا کہ مجھ سے بیان کرو جو تم نے سنا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ انہوں نے جواب میں لکھا میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جمعہ کے دن شام کو جس دن ماعز اسلمی سنگسار کیے گئے (ان کا قصہ کتاب الحدود میں گزرا) یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو یا تم پر بارہ خلیفہ ہوں اور وہ سب قریشی ہوں گے۔“شاید یہ واقع بھی قیامت کے قریب ہوگا کہ بارہ خلیفہ بارہ ٹکڑیوں پر مسلمانوں کے ہوں گے ایک ہی وقت میں) اور سنا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ایک چھوٹی سی جماعت مسلمانوں کی کسریٰ کے سفید محل کو فتح کرے گی۔ (یہ معجزہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ ایسا ہی ہوا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں) اور میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قیامت کے قریب جھوٹے پیدا ہوں گے ان سے بچنا۔“اور میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:“ جب اللہ تم میں سے کسی کو دولت دے تو پہلے اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔“ (ان کو آرام سے رکھے پھر فقیروں کو دے) اور میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”میں تمہارا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر۔“ (یعنی تمہارے پانی پلانے کے لیے وہاں بندوبست کروں گا اور تمہارے آنے کا منتظر رہوں گا)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۱ کا خلاصہ

یہ حدیث کئی باتیں ایک ساتھ بیان کرتی ہے، مگر آغاز میں دین کے قائم رہنے اور بارہ خلفاء کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو یا تم پر بارہ خلیفہ ہوں، اور وہ سب قریشی ہوں گے۔ اسی روایت میں کسریٰ کے سفید محل کی فتح، قیامت کے قریب جھوٹوں سے بچنے، اللہ کی دی ہوئی بھلائی میں پہلے اپنے اوپر اور گھر والوں پر خرچ کرنے، اور حوض کوثر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش خیمہ ہونے کا ذکر بھی ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہر بات کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔ متن سے یہی سیکھ ملتی ہے کہ دین کا معاملہ اللہ کے حکم سے قائم ہے، قیادت کا ذکر قریش سے جڑا ہے، جھوٹے دعووں سے بچنا ہے، اور مال ملے تو اپنے گھر کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کے قائم رہنے اور بارہ قریشی خلفاء کا ذکر آیا ہے۔
  • قیامت کے قریب جھوٹوں سے بچنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
  • مال ملے تو پہلے اپنے اوپر اور گھر والوں پر خرچ کرنے کی بات آئی ہے۔
  • حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش خیمہ ہونے کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں