صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۲ - حاکم کے غلط کام کا انکار

برے کام کا انکار: حاکم کی اطاعت میں درست رویہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۰۲

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : " فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ " ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۲ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلی حدیث ہی کا مضمون آیا ہے، مگر الفاظ کی ترتیب میں یہ بات زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے کہ برے عمل کا انکار اور دل کی ناپسندیدگی بہت اہم ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر غلطی پر شور مچایا جائے یا فتنہ کھڑا کیا جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب حاکم سے کوئی ناپسندیدہ کام دیکھا جائے تو اسے دل سے درست نہ سمجھا جائے۔ یہی حکمرانوں کی اطاعت حدیث کا اہم پہلو ہے۔ آدمی اگر کسی غلط کام کو اچھا سمجھ کر اس کے پیچھے چلنے لگے تو یہ خطرناک بات ہے۔ لیکن اگر وہ برائی کو برائی سمجھتا ہے، اس پر راضی نہیں ہوتا، اور دل میں اسے ناپسند کرتا ہے تو حدیث کے مطابق وہ اس برائی کے اثر سے بچنے کی راہ اختیار کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • برائی کو دل سے برا جاننا ضروری ہے۔
  • حاکم کے ہر عمل کو درست سمجھ لینا درست رویہ نہیں۔
  • غلط کام پر راضی ہونا حدیث میں مذموم بتایا گیا ہے۔
  • فتنہ سے بچتے ہوئے حق اور ناحق کا فرق باقی رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں