صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۶ - اطاعت بقدر استطاعت

سمع و طاعت کی بیعت: جتنا ہو سکے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۶

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَيُّوبَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ : لَنَا فِيمَا اسْتَطَعْتَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے بات سننے اور حکم ماننے پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہ بھی کہو جتنا مجھ سے ہو سکے گا۔“ (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت تھی اپنی امت پر کہ جو کام نہ ہو سکے اس کے نہ کرنے میں گنہگار نہ ہوں)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اطاعت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور حکم ماننے پر بیعت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرماتے کہ یہ بھی کہو، جتنا مجھ سے ہو سکے گا۔ سمع و طاعت کی حدیث میں یہ جملہ بہت اہم ہے، کیونکہ بیعت کو طاقت اور استطاعت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ متن میں سختی نہیں، بلکہ انسان کی قدرت کا لحاظ ہے۔ اطاعت بقدر استطاعت کا مطلب اسی روایت سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے عہد میں سنجیدہ ہو، مگر اپنی طاقت سے باہر بات کا دعویٰ نہ کرے۔ یہ حدیث بیعت، اطاعت، اور انسانی بساط کے درمیان ایک صاف توازن دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ سمع و طاعت پر بیعت کرتے تھے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جتنا ہو سکے کی قید سکھائی۔
  • دینی عہد میں استطاعت کا لحاظ رکھا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں