صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۷ - بلوغت اور ذمہ داری کی عمر
چودہ اور پندرہ سال کی حدیث: ذمہ داری کی حد
صحیح مسلم : ۴۸۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال : " عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمْ يُجِزْنِي وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَأَجَازَنِي ، قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں پیش ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احد کے دن لڑائی میں اور میں چودہ برس کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منظور نہ کیا (یعنی لڑنے میں داخل نہ کیا) پھر میں پیش ہوا خندق کے دن جب میں پندرہ برس کا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور کر لیا۔ سیدنا نافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کی ان کے پاس آ کر، وہ ان دنوں خلیفہ تھے انہوں نے کہا: یہی حد ہے نابالغ اور بالغ کی اور اپنے عالموں کو لکھا کہ جو شخص پندرہ برس کا ہو اس کا حصہ لگا دیں اور جو پندرہ برس سے کم ہو اس کو بال بچوں میں شریک کریں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بلوغت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے، اس وقت چودہ برس کے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لڑائی میں شامل نہ کیا۔ پھر خندق کے دن پیش ہوئے، جب پندرہ برس کے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منظور کر لیا۔ سیدنا نافع نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے، پھر اپنے عاملوں کو لکھا کہ پندرہ برس والے کا حصہ لگائیں اور کم عمر کو بال بچوں میں شامل کریں۔ اس روایت میں عمر، ذمہ داری، اور عملی فیصلہ تینوں باتیں متن کے اندر واضح ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چودہ برس کی عمر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کو شامل نہیں کیا گیا۔
- پندرہ برس کی عمر میں انہیں منظور کر لیا گیا۔
- عمر بن عبدالعزیز نے اس روایت کو حد سمجھ کر حکم لکھا۔
