صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۲ - حاکم کی خیر خواہی
حاکم کی خیر خواہی کی حدیث: منصب امانت ہے
صحیح مسلم : ۴۷۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۲
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ ذمہ دار شخص، خاص طور پر مسلمانوں کا حاکم، رعیت کے لیے خیر خواہی اور کوشش سے خالی نہیں رہ سکتا۔ حدیث میں حاکم کی ذمہ داری کو بہت سنجیدہ انداز میں رکھا گیا ہے۔ اگر وہ مسلمانوں کے کام کا امیر بنے اور پھر ان کی بھلائی کے لیے محنت نہ کرے، تو اس کے لیے سخت وعید ہے۔ یہ بات صرف سیاسی عہدے تک محدود سمجھنا درست نہیں؛ اصل اصول یہ ہے کہ جس کے پاس لوگوں کے کام کا اختیار ہو، وہ انہیں نظر انداز نہ کرے۔ رعیت کی خیر خواہی، امانت اور عدل اس روایت کے صاف پیغام ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختیار ملے تو لوگوں کی بھلائی کی کوشش کی جائے۔
- رعیت کو نظر انداز کرنا سخت وعید کا سبب ہے۔
- حاکم کے دل میں خیر خواہی ہونی چاہیے۔
