صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۱ - مسلمانوں کی خیر خواہی
مسلمانوں کی خیر خواہی: حاکم کی اصل ذمہ داری
صحیح مسلم : ۴۷۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۱
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : " إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ " ،
ابوالملیح روایت:
عبیداللہ بن زیاد نے بیمار پرسی کی سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی ان کی بیماری میں تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں مرنے والا نہ ہوتا تو تجھ سے بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”جو حاکم ہو مسلمانوں کا پھر ان کی بھلائی میں کوشش نہ کرے اور خالص نیت سے ان کی بہتری نہ چاہے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں نہ جائے گا۔“ (بلکہ پیچھے رہ جائے گا اور اپنی ناانصافی کا عذاب بھگتے گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسلمانوں کے حاکم کے لیے خیر خواہی اور کوشش کا حکم نہایت واضح انداز میں آیا ہے۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جو امیر مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو، پھر ان کے لیے کوشش نہ کرے اور خلوص سے ان کی بہتری نہ چاہے، وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہاں اصل بات “نصیحت” اور “جہد” ہے، یعنی صرف منصب رکھنا کافی نہیں۔ حاکم کو لوگوں کے فائدے کے لیے محنت کرنی ہے اور دل سے خیر خواہی رکھنی ہے۔ یہ حدیث ہر ایسے شخص کو متوجہ کرتی ہے جس کے فیصلوں سے مسلمانوں کے معاملات متاثر ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاکم کے لیے لوگوں کی بھلائی کی کوشش ضروری ہے۔
- صرف عہدہ کافی نہیں، خیر خواہی بھی چاہیے۔
- مسلمانوں کے امور میں سستی سخت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
