صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۰ - حاکم کی خیانت اور نصیحت

حاکم کی خیانت: رعیت کے حق میں سخت نصیحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۰

وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ ، وَزَادَ ، قَالَ : أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ ، قَالَ : مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ ابن زیاد نے پوچھا: تم نے یہ حدیث مجھ سے پہلے کیوں نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے تیرے لیے نہیں بیان کی یا میں تجھ سے کیوں بیان کرتا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۰ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں یہ بات بھی آئی کہ ابن زیاد نے پوچھا: آپ نے یہ حدیث پہلے کیوں نہ بیان کی؟ جواب میں سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے اسے بیان نہیں کیا تھا۔ اصل حدیث کا پیغام وہی ہے: جسے اللہ رعیت کی ذمہ داری دے اور وہ ان کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے مرے، اس کے لیے سخت وعید ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ حق بات کبھی ایسے موقع پر بھی کہی جاتی ہے جب مخاطب کو نصیحت کی ضرورت ہو۔ حاکم کی ذمہ داری، رعیت کا حق اور امانت کی حفاظت اس حدیث کے بنیادی الفاظ سے صاف ظاہر ہوتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حق بات ضرورت کے وقت بیان کی جا سکتی ہے۔
  • رعیت کے ساتھ خیانت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
  • ذمہ دار شخص کے لیے خیر خواہی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں