صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۲ - حاکم کی نرمی اور رعایا کا حق
حاکم کی نرمی کی حدیث: رعایا کے ساتھ آسانی
صحیح مسلم : ۴۷۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۲
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ ، فَقَالَتْ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ ، فَقُلْتُ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، فَقَالَتْ : كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ ؟ ، فَقَالَ : مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ ، فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ ، وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ ، وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ ، فَقَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ " ،
عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے، میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا کچھ پوچھنے کو۔ انہوں نے پوچھا کہ تو کون سے لوگوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: مصر والوں میں سے، انہوں نے کہا: تمہارے حاکم کا کیا حال تھا اس لڑائی میں؟ (یعنی محمد بن ابی بکر کا جن کو سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حاکم کیا تھا مصر کا قیس بن سعد کو معزول کر کے) میں نے کہا: ان کی تو کوئی بات ہم نے بری نہیں دیکھی ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تو اس کو اونٹ دیتے اور غلام مر جاتا تو غلام دیتے اور خرچ کی احتیاج ہوتی تو خرچ دیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن ابی بکر میرے بھائی کو جو حال ہوا (کہ مارا گیا اور لاش مرداروں میں پھینکی گئی پھر جلائی گئی) یہ مجھے اس امر کے بیان کرنے سے نہیں روکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس کوٹھڑی میں:”یااللہ! جو کوئی میری امت کا حاکم ہو پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی ان پر سختی کر اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ ان پر نرمی کرے تو بھی اس پر نرمی کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۲ کا خلاصہ
یہ روایت حاکم کی نرمی اور رعایا کے ساتھ آسانی کا سبق دیتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ذاتی غم کو ایک طرف رکھ کر وہ بات بیان کی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ دعا کا مضمون صاف ہے: جو شخص امت کے کسی کام کا ذمہ دار بنے اور لوگوں پر سختی کرے، اللہ اس پر سختی کرے؛ اور جو لوگوں کے ساتھ نرمی کرے، اللہ اس پر نرمی کرے۔ اس حدیث میں قیادت کا اصل معیار بتایا گیا ہے۔ عہدہ صرف حکم چلانے کا نام نہیں، بلکہ لوگوں کے حال، ضرورت اور آسانی کا خیال رکھنے کا نام ہے۔ حاکم، منتظم اور ذمہ دار سب اس نصیحت سے سبق لے سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذمہ داری ملے تو لوگوں پر بےجا سختی نہ کی جائے۔
- رعایا کے ساتھ نرمی کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- ذاتی جذبات حق بات بیان کرنے سے نہیں روکنے چاہئیں۔
