صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۳ - رعایا سے نرمی کی نصیحت
رعایا سے نرمی: حاکم کے لیے نبوی دعا
صحیح مسلم : ۴۷۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس کا مرکزی پیغام حاکم کی نرمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کسی کام کا ذمہ دار بننے والے کے لیے دو راستے واضح کیے: اگر وہ لوگوں پر مشقت ڈالے تو اس کے لیے سختی کی دعا، اور اگر وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے تو اس کے لیے نرمی کی دعا۔ یہ بات ہر ذمہ دار کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کے فیصلوں سے لوگوں پر غیر ضروری بوجھ تو نہیں آ رہا۔ یہاں نرمی کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ بھلائی، آسانی اور خیر خواہی کا معاملہ ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذمہ دار شخص کو لوگوں کی آسانی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نرمی کا معاملہ اللہ کی نرمی کی امید کا سبب بتایا گیا۔
- لوگوں پر مشقت ڈالنا سخت تنبیہ کے ساتھ آیا ہے۔
