صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۳ - ظالم حکمران سے بچاؤ
ظالم حکمران کی حدیث: برا چرواہا نہ بنو
صحیح مسلم : ۴۷۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۳
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، فَقَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ ؟ ، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ " .
حسن روایت:
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے وہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور اس سے کہا: اے بیٹے میرے! میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: ”سب سے برا چرواہا ظالم بادشاہ ہے (جو رعیت کو تباہ کر دے) تو ایسا نہ ہونا۔“ عبیداللہ نے کہا: بیٹھ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی بھوسی ہے۔ عائذ نے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں بھی بھوسی تھی بھوسی تو بعد والوں میں ہے اور غیر لوگوں میں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ظالم حکمران کے بارے میں سخت تنبیہ دیتی ہے۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن زیاد کو نصیحت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ سب سے برا چرواہا وہ ہے جو روندنے والا اور تباہ کرنے والا ہو۔ الفاظ میں “چرواہا” کی مثال ہے، مگر مقصد ذمہ دار اور حاکم کو سمجھانا ہے کہ رعیت کو نقصان پہنچانا بدترین طریقہ ہے۔ عائذ رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کی بے ادبی پر بھی جواب دیا اور بتایا کہ کمی بعد کے لوگوں میں آئی، صحابہ میں نہیں۔ اس حدیث سے قیادت، ادب اور ظلم سے بچنے کا صاف سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رعیت کو نقصان پہنچانے والی قیادت سخت مذمت کے قابل ہے۔
- حاکم کو ظلم اور تباہ کن سختی سے بچنا چاہیے۔
- صحابہ کرام کے بارے میں ادب کا خیال رکھا جائے۔
