صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۹ - رعیت سے خیانت کی وعید
رعیت سے خیانت کی حدیث: حاکم کے لیے سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۴۷۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۹
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ،
حسن روایت:
عبیداللہ بن زیاد معقل بن یسار کے پوچھنے کو آیا جس بیماری میں وہ مر گئے تو معقل نے کہا: میں ایک حدیث تجھ سے بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اگر میں جانتا کہ ابھی زندہ رہوں گا تو تجھ سے بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:”کوئی بندہ ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ ایک رعیت دے دے پھر وہ مرے اور جس دن وہ مرے وہ خیانت کرتا ہو اپنی رعیت کے حقوق میں مگر اللہ تعالیٰ حرام کر دے گا اس پر جنت کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث حاکم کی خیانت کے بارے میں سخت تنبیہ ہے۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیماری کے وقت وہ بات بیان کی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جس بندے کو اللہ کوئی رعیت دے، پھر وہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعیت کے حقوق میں خیانت کر رہا ہو، تو اس کے لیے جنت سے محرومی کی سخت وعید آئی ہے۔ اس روایت کا پیغام حاکم، منتظم اور ہر ذمہ دار کے لیے بہت واضح ہے۔ رعیت کے ساتھ دھوکا، حق تلفی اور امانت میں خیانت معمولی بات نہیں۔ جو شخص لوگوں کے معاملات کا ذمہ دار ہو، اسے ان کی بھلائی، حفاظت اور حق ادا کرنے کی فکر رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رعیت کے حقوق میں خیانت سخت وعید کا سبب ہے۔
- ذمہ داری ملنے کے بعد لوگوں کی خیر خواہی لازم ہے۔
- حاکم یا منتظم کو امانت میں سچائی رکھنی چاہیے۔
