صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۸ - چھوٹا سمجھا جانا اور عمر کی حد

ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عمر: چودہ میں چھوٹا، پندرہ میں منظور

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۸

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي .

عبیداللہ روایت:

عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ ہے کہ میں چودہ برس کا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع بلوغت ہے۔ عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے، مگر اس میں یہ لفظ آیا کہ جب میں چودہ برس کا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا سمجھا۔ یہ بات پچھلی روایت کی وضاحت کو اور صاف کر دیتی ہے۔ احد کے دن چودہ سال کی عمر میں شامل نہ کیا جانا، اور خندق کے دن پندرہ سال کی عمر میں منظور کیا جانا، اسی مضمون کا حصہ ہے۔ بلوغت کی حدیث یا عمر کی حد کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ روایت خاص طور پر لفظ استصغرنی کی وجہ سے اہم ہے، یعنی مجھے کم عمر سمجھا گیا۔ متن سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عمر اور صلاحیت کے لحاظ سے فیصلہ کیا گیا، اور بعد میں اسے عملی حد کے طور پر سمجھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چودہ سال کی عمر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کو چھوٹا سمجھا گیا۔
  • یہ روایت پچھلی عمر والی حدیث کی تائید کرتی ہے۔
  • عمر کے لحاظ سے ذمہ داری کا فرق روایت میں آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں