صحیح مسلم حدیث ۴۸۵۹ - اللہ کی راہ میں نکلنے والے کا اجر

اللہ کی راہ میں نکلنے والے کا اجر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۵۹

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي ، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا ، مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ ، حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً ، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو ، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ضامن ہے اس کا جو نکلے اس کی راہ میں اور نہ نکلے مگر جہاد کے لیے اور ایمان رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر اور سچ جانتا ہو اس کے پیغمبروں کو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایسا شخص میری حفاظت میں ہے یا تو میں اس کو جنت میں لے جاؤں گا یا اس کو پھیر دوں گا اس کے گھر کی طرف ثواب یا غنیمت دے کر۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے کوئی زخم ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لگے مگر وہ قیامت کے دن اسی شکل پر آئے گا جیسا دنیا میں ہوا تھا۔ اس کا رنگ خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے کبھی بھی لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں (سواریوں وغیرہ کی) اور مسلمانوں پر دشوار ہو گا میرے ساتھ نہ چلنا۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اللہ کی راہ میں پھر مارا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر مارا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر مارا جاؤں۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۵۹ کا خلاصہ

اس طویل حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی راہ میں جہاد ہے، مگر متن میں شرط بھی صاف بیان ہوئی ہے: وہ شخص صرف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ پر ایمان رکھتا ہو، اور رسولوں کی تصدیق کرتا ہو۔ حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ضمانت کا ذکر ہے کہ ایسے شخص کو جنت میں داخل کیا جائے گا یا اسے اس کے گھر اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹایا جائے گا۔ پھر اللہ کی راہ میں لگنے والے زخم کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن اس کا رنگ خون جیسا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شدید خواہش بیان فرمائی کہ اگر مسلمانوں پر مشقت نہ ہوتی اور وسائل کی تنگی نہ ہوتی تو آپ کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتے۔ تشریح میں انہی الفاظ تک رہنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں نکلنے کے ساتھ ایمان اور تصدیق کی شرط بیان ہوئی ہے۔
  • حدیث میں اجر، غنیمت، واپسی یا جنت کا ذکر آیا ہے۔
  • اللہ کی راہ میں لگنے والے زخم کی قیامت کے دن خاص حالت بیان ہوئی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی مشقت اور وسائل کی تنگی کا خیال رکھا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں