صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۱ - اللہ کی راہ میں نکلنے والے کے لیے خوشخبری
جہاد فی سبیل اللہ کی حدیث: اللہ کی ضمانت اور بندے کی نیت
صحیح مسلم : ۴۸۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۱
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ ، إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ضامن ہے اس کا جو کوئی جہاد کرے اس کی راہ میں اور نہ نکلے اپنے گھر سے مگر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے واسطے اس کے کلام کا یقین کرے اس بات کا کہ لے جائے گا اس کو جنت میں یا پھیر دے گا اس کے گھر کو جہاں سے نکلا ہے ثواب اور غنیمت کے ساتھ۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جہاد فی سبیل اللہ اور خالص نیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص اپنے گھر سے صرف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اور اللہ کے کلام کی تصدیق کرتا ہے، اس کے لیے اللہ کی طرف سے بڑی خوشخبری ہے۔ نتیجہ دو میں سے ایک ہو سکتا ہے: یا اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے، یا اسے اس کے گھر اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل وزن نیت، مقصد اور اللہ کے راستے میں نکلنے پر ہے۔ یہ حدیث جہاد کی فضیلت، اجر جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی حدیث کے طور پر بہت تلاش کی جاتی ہے، مگر اس میں شرط صاف ہے کہ نکلنا صرف اللہ کے لیے ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں نکلنے کی اصل بنیاد خالص نیت ہے۔
- مجاہد کے لیے حدیث میں جنت یا اجر کے ساتھ واپسی کی خوشخبری آئی ہے۔
- دینی عمل میں اللہ کے کلام پر یقین کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
- ثواب کا معاملہ اللہ کے وعدے اور اس کی رحمت سے جڑا ہے۔
