صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۲ - اللہ کی راہ کے زخم کی فضیلت
شہادت اور اللہ کی راہ کے زخم کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۲
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا نہیں جو زخمی ہو اللہ کی راہ میں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو زخمی ہو اس کی راہ میں مگر قیامت کے دن وہ آئے گا اس کا خون بہتا ہو گا رنگ تو خون کا ہو گا خوشبو مشک کی ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اللہ کی راہ میں زخمی ہونے کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی اس کی راہ میں زخمی ہوا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا، مگر خوشبو مشک کی ہو گی۔ اس بیان میں عمل کی سچائی بھی ہے اور اللہ کے علم کا ذکر بھی۔ انسان ظاہر دیکھتا ہے، مگر اللہ جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں تھا۔ اس لیے زخم کی فضیلت کی حدیث ہمیں نیت، سچائی اور اللہ کے فیصلے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی اس کی راہ میں زخمی ہوا۔
- اللہ کی راہ کا زخم قیامت کے دن ایک خاص نشانی کے ساتھ ظاہر ہو گا۔
- ظاہری عمل کے ساتھ نیت اور حقیقت اللہ کے علم میں ہے۔
- حدیث میں شہادت اور قربانی کی قدر کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
