صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۳ - زخم شہادت اور امت پر آسانی

اللہ کی راہ کے زخم اور نبی صلى الله عليه وسلم کی امت سے شفقت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۳

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا ، إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّد ٍ فِي يَدِهِ ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً ، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً ، فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي " .

ہمام بن منبہ روایت:

ہمام بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، یہ وہ ہے جو حدیث بیان کی ہم سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر، پھر بیان کیا کئی حدیثوں کو اور کہا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو زخم مسلمان کو لگے اللہ تعالی کی راہ میں وہ قیامت کے دن اسی شکل پر آئے گا جیسے نیا لگا تھا خون بہتا ہو گا رنگ تو خون کا ہو گا پر خوشبو مشک کی ہو گی۔“ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر دشواری نہ ہوتی مسلمانوں پر تو میں ہر لشکر کے ساتھ جاتا جو جہاد کرتا ہے اللہ عزوجل کی راہ میں لیکن اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں سب کو سواریاں دوں اور نہ ان کو اتنی طاقت ہے کہ وہ سب میرے ساتھ رہیں اور نہ ان کے دلوں کو بھلا لگے گا میرے ساتھ نہ چلنا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں دو باتیں بیان ہوئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمان کو اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے، وہ قیامت کے دن اسی طرح ظاہر ہو گا جیسے تازہ زخم ہو، خون بہے گا، رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی۔ دوسری بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر شفقت کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اگر مسلمانوں پر دشواری نہ ہوتی، سواریوں کی تنگی نہ ہوتی، اور ان کے دلوں پر بوجھ نہ پڑتا، تو آپ ہر ایسے لشکر کے ساتھ جاتے جو اللہ کی راہ میں نکلتا۔ اس حدیث میں جہاد کی فضیلت بھی ہے اور امت کے لیے آسانی کا خیال بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں لگنے والا زخم قیامت کے دن خاص حالت میں ظاہر ہو گا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر مشقت ڈالنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
  • دینی جذبے کے ساتھ لوگوں کی طاقت اور حالت کا خیال بھی رکھا گیا۔
  • حدیث میں جہاد کی رغبت کے ساتھ امت کے لیے رحمت بھی نمایاں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں