صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۴ - شہادت کی تمنا اور امت پر آسانی
شہادت کی فضیلت: نبی صلى الله عليه وسلم کی تمنا اور امت پر شفقت
صحیح مسلم : ۴۸۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۴
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَر َ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَى بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،
ابوہریرہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اگر دشواری نہ ہوتی مسلمانوں کو تو میں ہر لشکر کے ساتھ جاتا۔“ ویسا ہی جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر جلایا جاؤں۔ اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ کی راہ میں جانے کا شوق اور امت پر آپ کی نرمی دونوں سامنے آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کے لیے دشواری نہ ہوتی تو آپ ہر لشکر کے ساتھ جاتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ پسند فرماتے کہ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، پھر زندہ کیے جائیں، پھر اسی طرح شہادت پائیں۔ اس سے شہادت کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی طاقت اور مشکل کو نظر انداز نہیں کیا۔ یہ حدیث شہادت کی تمنا اور جہاد کی فضیلت کے موضوع پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں شہادت کو بہت پسند فرماتے تھے۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر غیر ضروری مشقت ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔
- شہادت کی فضیلت حدیث کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔
- دینی جوش کے ساتھ امت کی آسانی کا خیال بھی سنت کا حصہ ہے۔
