صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۵ - ہر لشکر کے ساتھ جانے کی خواہش
جہاد فی سبیل اللہ اور امت پر آسانی کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۵
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ . نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دشواری نہ ہوتی میری امت پر تو میں چاہتا کہ کسی لشکر کو نہ چھوڑوں۔“ جیسے اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۵ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی مضمون آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں نکلنے والے لشکروں کے ساتھ جانے کو پسند فرماتے تھے، لیکن امت پر دشواری کی وجہ سے ایسا نہیں فرماتے تھے۔ الفاظ میں خاص طور پر امت کا ذکر ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے شوق کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ مسلمانوں کی طاقت، حالات اور بوجھ کو بھی دیکھتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع جہاد کی فضیلت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ہے۔ جب لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی حدیث تلاش کرتے ہیں تو یہ روایت بتاتی ہے کہ دینی کام میں جذبہ بھی چاہیے اور لوگوں پر آسانی کا خیال بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی راہ میں نکلنے کا شدید شوق تھا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر دشواری ڈالنے سے بچتے تھے۔
- دینی قیادت میں لوگوں کی طاقت اور حالت کا خیال ضروری ہے۔
- حدیث جہاد کی فضیلت کے ساتھ رحمت اور آسانی کا سبق دیتی ہے۔
