صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۶ - اللہ کی راہ میں نکلنے والے کی ضمانت
اللہ کے راستے میں نکلنے والے کے لیے ضمانت کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۶
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَى قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر ضامن ہوتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلا ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”میں اللہ کے راستہ میں کسی لڑنے والے لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا۔“ تک ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ضامن ہوتا ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے۔ پھر روایت میں اس مضمون تک بات آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں لڑنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتے، اگر امت پر دشواری کا مسئلہ نہ ہوتا۔ اس حدیث میں اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت، مجاہد کا اجر، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت سب جمع ہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی رہتی ہے کہ اصل قدر اسی نکلنے کی ہے جو اللہ کے لیے ہو، نہ کہ کسی دنیاوی نام یا فائدے کے لیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں نکلنے والے کے لیے حدیث میں خاص ضمانت کا ذکر ہے۔
- جہاد فی سبیل اللہ میں نیت اور مقصد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے راستے کے لشکر سے پیچھے رہنا پسند نہ تھا۔
- امت کی آسانی کا خیال اس روایت کے مضمون میں موجود ہے۔
