صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۷ - شہید کی دنیا میں واپسی کی آرزو
شہید کی فضیلت: دنیا میں واپس آنے کی خواہش کیوں؟
صحیح مسلم : ۴۸۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا ، وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مر جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس اس کی بھلائی ہوتی ہے وہ راضی نہیں ہوتا کہ پھر دنیا میں آئے اگرچہ ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب اس کو ملے۔ شہید وہ آرزو کرتا ہے کہ پھر دنیا میں آئے اور مارا جائے کیونکہ وہ دیکھتا ہے شہادت کی فضیلت کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں شہادت کی فضیلت بہت صاف انداز میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مر جائے اور اللہ کے پاس اس کے لیے بھلائی ہو، وہ دنیا میں واپس آنا پسند نہیں کرے گا، چاہے اسے ساری دنیا اور اس کی چیزیں مل جائیں۔ لیکن شہید اس سے الگ ہے۔ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ کر یہ آرزو کرے گا کہ دنیا میں واپس جائے اور پھر اللہ کی راہ میں مارا جائے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شہید کو جو مقام دکھایا جاتا ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ وہ دوبارہ اسی عمل کی خواہش کرتا ہے۔ اس میں شہادت کا مقام، شہید کی فضیلت اور آخرت کی نعمت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے پاس بھلائی پانے والا دنیا کی چیزوں کو واپس آنے کا سبب نہیں بناتا۔
- شہید شہادت کی فضیلت دیکھ کر دوبارہ شہید ہونے کی آرزو کرے گا۔
- حدیث میں شہادت کے مقام کو خاص انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- دنیا کی نعمتیں آخرت کی بھلائی کے مقابلے میں کم تر دکھائی دیتی ہیں۔
