سنن نسائی حدیث ۳۱۴۷ - تیر، آزادی اور قیامت کا نور
اللہ کی راہ میں کوشش کا بڑا اجر
سنن نسائی : ۳۱۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ يُحَدِّثُ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
شرحبیل بن سمط روایت:
میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۳۱۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں تیر چلانے، مسلمان غلام آزاد کرنے اور اللہ کی راہ میں بوڑھا ہونے کے اجر کو بیان فرمایا۔ تیر دشمن تک پہنچے، نشانہ لگے یا خطا ہو، پھر بھی اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر بتایا گیا۔ مسلمان غلام آزاد کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا عضو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا فدیہ بنے گا۔ پھر فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو گیا، یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور ہو گا۔ اس حدیث کا انداز دل کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیت کے ساتھ کی گئی کوشش کو دیکھتا ہے، صرف ظاہری نتیجہ نہیں دیکھتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں کوشش کا اجر نتیجہ ملنے یا نہ ملنے دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے۔
- مسلمان غلام آزاد کرنا آگ سے نجات کا سبب بتایا گیا ہے۔
- اللہ کی راہ میں عمر گزارنا قیامت کے دن نور بنے گا۔
- عمل میں نیت اور کوشش دونوں کی اہمیت ہے۔
