سنن نسائی حدیث ۳۱۴۸ - ایک تیر سے تین لوگوں کا اجر

نیک نیت تعاون بھی جنت کا سبب بن سکتا ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۳۱۴۸

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَمُنَبِّلَهُ " .

عقبہ بن عامر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (پہلا) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، (دوسرا) تیر کا چلانے والا (تیسرا) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا (تینوں ہی جنت میں جائیں گے)“۔

سنن نسائی حدیث ۳۱۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک تیر کے ذریعے تین لوگوں کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کے سبب تین افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا: تیر بنانے والا، جب وہ اچھی نیت سے اسے بنائے؛ تیر چلانے والا؛ اور وہ شخص جو تیر اٹھا کر پکڑاتا اور چلانے کے لیے دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک کام میں ہر جائز تعاون قیمتی ہو سکتا ہے۔ کبھی انسان سامنے نظر نہیں آتا، مگر وہ کسی نیک کام کے پیچھے مددگار ہوتا ہے۔ حدیث میں خاص طور پر تیر بنانے والے کے لیے نیت کا ذکر آیا ہے، اس لیے نیت کی درستگی یہاں بھی اصل بنیاد ہے۔ اللہ کی راہ میں تعاون معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک کام میں مدد کرنے والا بھی اجر پا سکتا ہے۔
  • عمل کے ساتھ اچھی نیت بہت ضروری ہے۔
  • تیر بنانے، چلانے اور پکڑانے والے سب کا ذکر اجر کے ساتھ آیا ہے۔
  • اللہ کے ہاں تعاون کی چھوٹی صورت بھی قیمتی ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں