صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۵ - صبح یا شام اللہ کی راہ میں چلنے کا مقام
غدوہ یا روحہ فی سبیل اللہ: دنیا سے بہتر عمل
صحیح مسلم : ۴۸۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
سھل بن سعد روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صبح یا شام کو چلنا اللہ کی راہ میں دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ اللہ کی راہ میں صبح یا شام کا چلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔ یہاں “صبح یا شام” دونوں وقت ذکر ہوئے ہیں، یعنی اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے وقت کی مقدار مختصر بھی ہو تو اس کی قدر بہت بڑی ہو سکتی ہے۔ حدیث جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت کو آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سفر خود بخود اس فضیلت میں داخل ہو جائے؛ الفاظ میں صاف ہے کہ یہ چلنا اللہ کی راہ میں ہے۔ اس لیے نیت اور مقصد اس حدیث کے فہم میں اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں صبح یا شام کا نکلنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- حدیث دنیا کی چیزوں کے مقابلے میں اللہ کے اجر کی قدر بتاتی ہے۔
- عمل کی فضیلت اس کے مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔
- یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مزید واضح کرتی ہے۔
