صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۶ - اللہ کے راستے میں صبح یا شام کی فضیلت

اللہ کی راہ میں شام یا صبح کرنا: حدیث کا پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۶

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ أُمَّتِي ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فِيهِ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہوتے۔“ باقی حدیث گزر چکی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے۔ ”اللہ کے راستے میں شام یا صبح کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۶ کا خلاصہ

اس روایت میں پہلے امت پر مشقت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے، پھر یہ اضافہ آیا کہ اللہ کے راستے میں شام یا صبح کرنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی فضیلت کو کئی انداز میں بیان فرمایا۔ کبھی اللہ کی ضمانت کا ذکر ہوا، کبھی زخم کی فضیلت، اور یہاں صبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں ہونے کی قدر بیان ہوئی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ کے لیے کیا گیا وقت دنیاوی فائدوں سے بڑھ کر ہے۔ مگر الفاظ کے مطابق بات اسی عمل پر ہے جو واقعی اللہ کے راستے میں ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں صبح یا شام کا وقت بڑی قدر رکھتا ہے۔
  • حدیث دنیا کے مقابلے میں آخرت کے اجر کی اہمیت بتاتی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی مشقت کا خیال بھی رکھا۔
  • نیت اور اللہ کا راستہ اس فضیلت کی اصل بنیاد ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں