صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۹ - اللہ، اسلام اور محمد صلى الله عليه وسلم پر راضی ہونا
اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلى الله عليه وسلم کو نبی ماننے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۷۹
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ : " مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّد ٍ نَبِيًّا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ : أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفَعَلَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " ، قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابو سعید خدری روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوسعید جو راضی ہو اللہ کے رب ہونے سے اور اسلام کے دین ہونے سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے اس کے لیے جنت واجب ہے۔“ یہ سن کر سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا اور کہا: پھر فرمایئے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اور فرمایا کہ ”ایک اور عمل ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے ملیں گے جنت میں اور ہر ایک درجہ سے دوسرے درجہ تک اتنا فاصلہ ہو گا جتنا آسمان اور زمین میں ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا وہ کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرنا اللہ کی راہ میں، جہاد کرنا اللہ کی راہ میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہو، اس کے لیے جنت واجب ہے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تعجب سے دوبارہ سننے کی درخواست کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور عمل کا ذکر فرمایا جس سے بندے کو جنت میں سو درجے بلند کیے جائیں گے، اور ہر درجے کے درمیان آسمان و زمین جتنا فاصلہ ہو گا۔ پوچھنے پر فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد۔ اس حدیث میں ایمان کی رضا، جنت کی خوشخبری اور جہاد کے درجات کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کو رب، اسلام کو دین، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہونا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو دوبارہ بھی فرمایا۔
- حدیث میں جنت کے درجات کا ذکر جہاد کے ساتھ آیا ہے۔
- ایمان کی رضا اور اللہ کی راہ میں عمل دونوں کا مقام بیان ہوا ہے۔
