صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۰ - شہادت، اخلاص اور قرض کا معاملہ

شہادت سے گناہوں کی معافی، مگر قرض باقی رہتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ " .

ابوقتادہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے صحابہ رضی اللہ عنہم میں اور بیان کیا ان سے کہ تمام عملوں میں افضل جہاد ہے اللہ کی راہ میں اور ایمان لانا اللہ تعالیٰ پر۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! اگر میں مارا جاؤں اللہ کی راہ میں تو میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تو مارا جائے اللہ کی راہ میں صبر کے ساتھ اور تیری نیت خالص ہو اللہ کے لئے اور تو سامنے رہے پیٹھ نہ موڑے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا کہا۔“ وہ بولا: اگر میں مارا جاؤں اللہ تعالیٰ کی راہ میں تو میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تو مارا جائے صبر کر کے خالص نیت سے اور منہ تیرا سامنے ہو پیٹھ نہ موڑے مگر قرض معاف نہ ہو گا۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے بیان کیا مجھ سے اس بات کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان افضل اعمال میں سے ہیں۔ ایک شخص نے پوچھا کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر تم صبر کے ساتھ، خالص نیت سے، آگے بڑھتے ہوئے اور پیٹھ نہ موڑتے ہوئے مارے جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سوال سن کر فرمایا کہ ہاں، مگر قرض معاف نہیں ہو گا، کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے یہ بات بتائی۔ اس حدیث میں شہادت کی فضیلت کے ساتھ حقوق العباد، خاص طور پر قرض، کی سنجیدگی بھی صاف بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شہادت کے ساتھ صبر، خالص نیت اور ثابت قدمی کا ذکر آیا ہے۔
  • قرض کا معاملہ بہت اہم ہے، حدیث میں اسے الگ کیا گیا ہے۔
  • ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو افضل اعمال میں بیان کیا گیا۔
  • دینی فضیلت کے باوجود لوگوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں