صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۱ - اللہ کی راہ میں شہادت اور سوال

اللہ کی راہ میں شہادت کی حدیث: اصل سوال اور دینی سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ،

ابوقتادہ روایت:

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، مجھے بتائیں اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں باقی حدیث لیث کی حدیث کی طرح ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۱ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ایک آدمی کا سوال نقل ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پوچھا کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا حکم ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ باقی حدیث لیث کی روایت کے معنی کے مطابق ہے۔ اس سے اصل توجہ شہادت کی حدیث، اللہ کی راہ میں قتل ہونے، اور نیکی کے بارے میں درست سوال کرنے پر رہتی ہے۔ یہاں کوئی نئی تفصیل نہیں دی گئی، بلکہ اسی سوال کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ بڑا عمل بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے بغیر سمجھا نہیں جاتا۔ جہاد فی سبیل اللہ، شہادت کا مقام اور دینی مسئلہ پوچھنا، یہ سب باتیں اس مختصر روایت کے اندر صاف دکھائی دیتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی معاملہ سمجھنے کے لیے اہل علم سے سوال کرنا درست طریقہ ہے۔
  • اللہ کی راہ میں جان دینا بہت بڑا موضوع ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی سے سمجھنا چاہیے۔
  • مختصر روایت بھی اصل معنی کو محفوظ رکھنے کے لیے نقل کی جا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں