صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۲ - تلوار کے ساتھ جہاد کا سوال
تلوار کے ساتھ جہاد کی حدیث: سوال، نیت اور شہادت
صحیح مسلم : ۴۸۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۲
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ . ح قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ .
ابوقتادہ روایت:
ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے۔ اس نے کہا: مجھے بتائیں اگر میں اپنی تلوار کے ساتھ ماروں (جہاد کروں) مقبری کی حدیث کے ہم معنی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں اپنی تلوار کے ساتھ ماروں، یعنی اللہ کی راہ میں لڑوں، تو کیا حکم ہے۔ روایت میں صاف بتایا گیا کہ یہ مقبری کی حدیث کے ہم معنی ہے۔ اس لیے یہاں اصل بات جہاد کی حدیث، اللہ کے راستے میں کوشش، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست رہنمائی لینے کی ہے۔ متن میں صرف سوال اور اس کے معنی کی طرف اشارہ ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دینی عمل، خاص طور پر جان اور مال سے متعلق کام، صرف جوش سے نہیں بلکہ صحیح بات جان کر کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی جوش کے ساتھ صحیح رہنمائی بھی ضروری ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا صحابہ کا سیکھنے کا طریقہ تھا۔
- روایت کے الفاظ بدل سکتے ہیں مگر معنی ایک ہی رہ سکتا ہے، جب راوی اس کی وضاحت کرے۔
