صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۳ - شہید کا قرض معاف نہیں ہوتا
شہید کا قرض معاف نہیں ہوتا: حقوق العباد کی واضح حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۳
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَي بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ شہید کا ہر گناہ بخش دے گا لیکن قرض نہیں بخشے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت صاف فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید کا ہر گناہ بخش دے گا، لیکن قرض نہیں بخشے گا۔ یہ شہادت کی حدیث انسان کو ایک اہم بات یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے جیسے بڑے عمل کے باوجود لوگوں کے حقوق کو ہلکا نہیں سمجھا جا سکتا۔ قرض کی حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ مالی ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے۔ متن میں قرض کو الگ ذکر کیا گیا ہے، اس لیے ہمیں بھی اسی نکتے پر رکنا چاہیے۔ یہ حدیث کسی کو ناامید نہیں کرتی، بلکہ ذمہ دار بناتی ہے۔ شہید کے فضائل اپنی جگہ ہیں، مگر قرض، امانت اور دوسرے کے حق کے معاملے میں انسان کو پہلے سے محتاط رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے، اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- شہادت کے فضائل کے باوجود لوگوں کے حقوق کا معاملہ باقی رہتا ہے۔
- مالی معاملات میں صاف گوئی اور ادائیگی کی فکر ضروری ہے۔
- حدیث گناہوں کی معافی کے ساتھ قرض کی خاص حیثیت بتاتی ہے۔
