صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۴ - اللہ کی راہ میں قتل ہونا مگر قرض باقی
قرض کی ادائیگی اور شہادت: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۴
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کی راہ میں مارا جانا مٹا دیتا ہے سب گناہوں کو، مگر قرض کو نہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۴ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارا جانا سب گناہوں کو مٹا دیتا ہے، مگر قرض کو نہیں۔ یہ بات بہت سادہ مگر بہت گہری ہے۔ شہادت، جہاد فی سبیل اللہ اور گناہوں کی معافی کے الفاظ دل کو امید دیتے ہیں، لیکن قرض کا استثنا انسان کو اپنے معاملات درست رکھنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ نہیں کہ شہادت کی قدر کم ہے، بلکہ یہ کہ بندوں کے حقوق واقعی اہم ہیں۔ اگر کسی پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے، لکھنے، گواہ رکھنے یا گھر والوں کو بتانے کی فکر کرنی چاہیے۔ متن ہمیں بس یہی بتاتا ہے کہ قرض کو اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے بڑے عمل سے بھی الگ رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں شہادت بہت بڑا عمل ہے، مگر قرض کا معاملہ الگ ہے۔
- لوگوں کے مالی حقوق ادا کرنا دینی ذمہ داری ہے۔
- حدیث ہمیں اپنے لین دین کو سنجیدگی سے لینے کی یاد دلاتی ہے۔
- گناہوں کی معافی کے بیان میں قرض کو خاص طور پر مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
