صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۵ - شہیدوں کی روحیں اور جنت
شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں میں: جنت اور شہادت کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ جميعا ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169 ، قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً ، فَقَالَ : هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا ؟ قَالُوا : أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا " ، فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا ، قَالُوا : يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى ، فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا .
مسروق روایت:
ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس آیت کا «وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» (۳-آل عمران: ۱۶۹) یعنی ”مت سمجھو ان لوگوں کو جو قتل کیے گئے اللہ کی راہ میں مردہ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے پاس روزی دیئے جاتے ہیں۔“سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اس آیت کو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہیدوں کی روحیں سبز چڑیوں کے قالب میں قندیلوں کے اندر ہیں، جو عرش مبارک سے لٹک رہی ہیں، اور جہاں چاہتی ہیں جنت میں چرتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ رہتی ہیں۔ایک بار ان کے پروردگار نے ان کو دیکھا اور فرمایا: تم کچھ چاہتی ہو؟ انہوں نے کہا: اب ہم کیا چاہیں گی ہم تو جنت میں چگتی پھرتی ہیں۔ جہاں چاہتی ہیں، پروردگار جل و علا نے پھر پوچھا، پھر پوچھا: جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر پوچھے ہماری رہائی نہیں (یعنی پروردگار جل جلالہ برابر پوچھے جاتا ہے) تو انہوں نے کہا: اے پروردگار! ہم یہ چاہتی ہیں کہ ہماری روحوں کو پھیر دے ہمارے بدنوں میں (یعنی دنیا کے بدنوں میں) تاکہ ہم مارے جائیں دوبارہ تیری راہ میں، جب پروردگار جل جلالہ نے دیکھا کہ اب ان کو کوئی خواہش نہیں تو چھوڑ دیا ان کو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث شہیدوں کے مقام کے بارے میں بہت اثر رکھنے والی روایت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کے بارے میں سوال کا جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ حدیث کے مطابق شہیدوں کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ہیں، قندیلوں میں ٹھہرتی ہیں، عرش سے لٹکی ہوئی ہیں، اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں چرتی پھرتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ کیا تم کچھ چاہتے ہو۔ وہ پہلے کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے، ہم جنت میں جہاں چاہیں جا رہے ہیں۔ آخر وہ عرض کرتے ہیں کہ ہماری روحیں بدنوں میں لوٹا دی جائیں تاکہ ہم دوبارہ اللہ کی راہ میں مارے جائیں۔ یہ شہداء کی فضیلت، جنت کی نعمت اور اللہ کی راہ میں جان دینے کی محبت کو بیان کرتی ہے، مگر وضاحت اسی متن تک محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہداء کو اللہ کے ہاں خاص رزق اور نعمت ملتی ہے۔
- حدیث میں شہیدوں کی روحوں کا جنت میں رہنا بیان ہوا ہے۔
- شہداء کی خواہش دوبارہ اللہ کی راہ میں جان دینے کی تھی۔
- قرآنی آیت کی سمجھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح ہوئی۔
