صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۷ - مؤمن کا جہاد اور تنہائی میں عبادت
افضل مؤمن کی حدیث: جان، مال، عبادت اور لوگوں کی حفاظت
صحیح مسلم : ۴۸۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۸۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور پوچھا: کون شخص افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو جہاد کرے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگوں کو بچائے اپنے شر سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سوال ہے کہ یا رسول اللہ، لوگوں میں کون افضل ہے؟ جواب میں مؤمن کا ذکر آیا جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ پھر اگلے درجے کے بارے میں پوچھا گیا تو ایسے آدمی کا ذکر ہوا جو کسی گھاٹی میں الگ رہتا ہے، اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ افضل مؤمن کی بات کرتے ہوئے صرف عبادت نہیں، بلکہ دوسروں کو تکلیف سے بچانا بھی اہم ہے۔ جان و مال سے جہاد کی حدیث، شر سے بچنے کی حدیث، اور مؤمن کی زندگی کا مقصد یہاں ایک ساتھ آتا ہے۔ متن کے مطابق اصل وزن اخلاص، عبادت اور لوگوں کے لیے امن کا سبب بننے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- افضل مؤمن وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جان و مال لگائے۔
- تنہائی میں عبادت ہو تو بھی لوگوں کو شر سے بچانا لازم ہے۔
- دین میں اپنے عمل کے ساتھ دوسروں کی سلامتی کا خیال بھی ہے۔
- حدیث نیکی کے دو واضح پہلو بیان کرتی ہے: قربانی اور امن۔
