صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۰ - پہاڑی گھاٹی کے الفاظ کی روایت
حدیث میں “شعبہ” کے الفاظ: روایت کی باریک امانت
صحیح مسلم : ۴۸۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹۰
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَيَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، وَقَالَ : فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ خِلَافَ رِوَايَةِ يَحْيَى ،
ابوحازم روایت:
ابوحازم سے یہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے اور ایک روایت میں «فِي شِعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ» کے الفاظ مروی ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۰ کا خلاصہ
یہ روایت ابوحازم ہی کی سند سے مروی ہے اور معنی پہلے بیان شدہ حدیث جیسا ہے۔ فرق یہ بتایا گیا کہ ایک روایت میں “فی شعبۃ من ھذہ الشعاب” کے الفاظ آئے ہیں۔ اصل مضمون وہی ہے: اللہ کی راہ میں تیار رہنے والا شخص، یا وہ بندہ جو وادی یا گھاٹی میں رہ کر نماز، زکوٰۃ اور عبادت کرتا ہے۔ یہاں خاص توجہ لفظی فرق پر ہے۔ محدثین نے یہ بھی محفوظ رکھا کہ کس راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو یہ حدیث کی حفاظت کا طریقہ ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دینی متن کو نقل کرتے وقت صرف اپنی سمجھ کافی نہیں، اصل الفاظ کا خیال بھی رکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب بات عبادت، زکوٰۃ اور خیر والی زندگی کی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی حدیث کے الفاظ میں معمولی فرق محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
- روایت کی امانت اصل الفاظ بتانے سے ظاہر ہوتی ہے۔
- معنی پہلے والی حدیث جیسا ہے، مگر لفظی فرق الگ سے ذکر ہوا۔
- حدیث کے متن میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
