صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۵ - کافر اور اسے قتل کرنے والا جہنم میں جمع نہیں
کافر اور اسے قتل کرنے والا جہنم میں جمع نہیں: حدیث کا سادہ مفہوم
صحیح مسلم : ۴۸۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَر ٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر اور اس کا مارنے والا (مسلمان) دونوں جہنم میں ایک جگہ نہ رہیں گے۔“ (اور کافر کو یہ موقع نہ ملے گا کہ مسلمان پر ہنسے اور اس کو الزام دے کہ تجھ کو ایمان سے کیا فائدہ ہوا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کافر اور اس کا مارنے والا مسلمان دونوں جہنم میں ایک جگہ نہ رہیں گے۔ متن میں یہی مختصر جملہ اصل ہے۔ اس سے متعلقہ روایت میں وضاحت آتی ہے کہ بات ایسے مؤمن کی ہے جس نے کافر کو قتل کیا، پھر نیکی پر قائم رہا۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے ہوئے الفاظ کی حد ضروری ہے۔ یہ جہاد، ایمان اور انجام سے متعلق ایک خاص بیان ہے، عام زندگی کے ہر معاملے پر اپنی طرف سے حکم لگانے کا مقام نہیں۔ “جہنم میں جمع نہ ہونا” اس حدیث کا مرکزی لفظ ہے۔ ایک قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ ایمان پر قائم رہنا اور نیکی کی راہ پر سیدھا رہنا اصل اہمیت رکھتا ہے، اور حدیث کے مختصر الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کا مختصر متن اپنی حد میں سمجھنا چاہیے۔
- ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کی اہمیت متعلقہ روایت سے واضح ہوتی ہے۔
- جہاد سے متعلق نصوص میں احتیاط اور اصل الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔
- اپنی طرف سے عام دعوے شامل نہیں کرنے چاہییں۔
