صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۶ - نیکی پر قائم رہنے والا مؤمن

نیکی پر قائم رہنے کی حدیث: مؤمن، جہاد اور انجام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ " ، قِيلَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں جہنم میں اس طرح اکٹھا نہ ہوں گے جو ایک دوسرے کو نقصان پہنچا دے۔“ لوگوں نے عرض کیا، وہ کون لوگ ہیں؟ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کافر کو قتل کرے پھر نیکی پر قائم رہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۶ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو لوگ جہنم میں اس طرح اکٹھے نہ ہوں گے کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جس نے کافر کو قتل کیا، پھر نیکی پر قائم رہا۔ یہاں “ثم سدد” یعنی پھر سیدھا رہا، بہت اہم لفظ ہے۔ اس لیے حدیث کا پیغام صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایمان کے بعد درست راستے پر رہنے سے بھی جڑا ہے۔ یہ جہاد کی حدیث ہے، مگر متن ہمیں استقامت کا لفظ بھی دیتا ہے۔ اس وضاحت میں کوئی اضافی حکم شامل نہیں کیا گیا۔ عام فہم انداز میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس خاص صورت میں حدیث مؤمن کے انجام اور اس کے نیکی پر قائم رہنے کو اہم بناتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان کے ساتھ نیکی پر قائم رہنا اہم ہے۔
  • حدیث میں “پھر سیدھا رہا” کا لفظ خاص توجہ چاہتا ہے۔
  • متن ایک خاص صورت بیان کرتا ہے، اسے حد سے بڑھا کر نہیں پھیلانا چاہیے۔
  • صحابہ کے سوال سے حدیث کا مطلب واضح ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں