صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۷ - اللہ کی راہ میں اونٹنی دینے کا اجر
اللہ کی راہ میں خرچ کی فضیلت: سات سو اونٹنیوں والی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹۷
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ ، فَقَالَ : هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ "
ابومسعود انصاری روایت:
ایک شخص ایک اونٹنی لایا نکیل سمت اور کہنے لگا یہ اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بدلے تجھے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی نکیل پڑی ہوئی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نکیل والی اونٹنی لے کر آیا اور کہا کہ یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلے قیامت کے دن تمہیں سات سو اونٹنیاں ملیں گی، سب نکیل والی ہوں گی۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کی حدیث انفاق فی سبیل اللہ کے اجر کو ایک واضح مثال سے سمجھاتی ہے۔ متن میں اونٹنی، نکیل اور سات سو کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی مثال تک رکھی گئی ہے۔ یہ حدیث دل میں سخاوت پیدا کرتی ہے، مگر ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ نیکی وہی ہے جو اللہ کی راہ میں دی جائے۔ یہاں کسی عام مال کے بجائے خاص سواری پیش کی گئی، اور اس پر اجر کا وعدہ بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں دی گئی چیز کا اجر بہت بڑھ کر مل سکتا ہے۔
- حدیث میں نکیل والی اونٹنی کی مثال خاص طور پر بیان ہوئی ہے۔
- قیامت کے دن اجر کا ذکر انسان کو اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
- نیکی میں کارآمد چیز دینا قابل قدر ہے۔
