صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۹ - نیکی کی راہ بتانے کا اجر
نیکی کی راہ بتانے کی حدیث: الدال علی الخیر کفاعلہ
صحیح مسلم : ۴۸۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۹۹
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي ، فَقَال : رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " .
ابومسعود انصاری روایت:
ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا جانور جاتا رہا اب مجھے سواری دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سواری نہیں ہے۔“ ایک شخص بولا: ”یا رسول اللہ! میں اسے بتلا دوں اس شخص کو جو سواری دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی نیکی کی راہ بتائے اس کو اتنا ہی ثواب ہے جتنا نیکی کرنے والے کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میری سواری ختم ہو گئی، مجھے سواری دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سواری نہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اسے ایسے شخص کا پتا بتا دیتا ہوں جو اسے سواری دے دے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی نیکی کی راہ بتائے، اسے نیکی کرنے والے کے برابر اجر ہے۔ یہ نیکی کی رہنمائی کی حدیث بہت آسان اور عملی ہے۔ ہر آدمی کے پاس مال یا سواری نہیں ہوتی، لیکن خیر کی طرف صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔ متن کے مطابق اصل بات یہی ہے کہ اچھے کام تک پہنچانے والا بھی اجر پاتا ہے، کیونکہ اس نے نیکی کے ہونے میں مدد دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی خود نہ کر سکیں تو اس کی صحیح راہ بتانا بھی خیر ہے۔
- مدد صرف مال سے نہیں، رہنمائی سے بھی ہو سکتی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی کی طرف دلالت کا اجر بیان فرمایا۔
- ضرورت مند کو مددگار تک پہنچانا ایک اچھا عمل ہے۔
