صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۰ - نیکی کی رہنمائی کی دوسری سند
خیر کی طرف رہنمائی: اسی سند سے نیکی کے اجر کی روایت
صحیح مسلم : ۴۹۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۰
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ روایت کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۰ کا خلاصہ
یہ روایت اعمش سے اسی سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے، یعنی اصل مضمون وہی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا: ایک شخص کو سواری کی ضرورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری نہ تھی، ایک آدمی نے اسے سواری دینے والے کے پاس رہنمائی کرنے کی بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے نیکی کرنے والے جیسا اجر ہے۔ اس مختصر روایت میں نئی تفصیل نہیں، مگر سند کے ذریعے اسی پیغام کو مضبوط کرتی ہے۔ “من دل علی خیر” کی حدیث آج بھی آسان زبان میں یہی سمجھاتی ہے کہ خیر کا راستہ بتانا، ضرورت مند کو مدد تک پہنچانا اور اچھے کام کی طرف رہنمائی کرنا ایک قیمتی نیکی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیر کی طرف رہنمائی خود ایک نیکی ہے۔
- اسی سند سے روایت کا آنا حدیث کے مضمون کی نقل کو مضبوط کرتا ہے۔
- ضرورت مند کو مدد تک پہنچانا عملی خیر ہے۔
- مختصر روایت میں نئی بات گھڑنے کے بجائے اصل مضمون پر رہنا چاہیے۔
