صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۲ - غازی کو سامان دینے کا ثواب

غازی کو سامان دینے کا ثواب: اللہ کی راہ میں مدد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۲

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، وقَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .

زید بن خالد جہنی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سامان دیا کسی غازی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں، اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر بار کی خبر رکھی اس نے بھی جہاد کیا۔“ (یعنی ثواب جہاد کا اس نے کمایا)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف انداز میں بتایا کہ اللہ کی راہ میں جانے والے غازی کی مدد کرنا معمولی کام نہیں۔ جو شخص کسی غازی کو سامان دیتا ہے، اس نے گویا خود بھی جہاد میں حصہ لیا۔ اسی طرح جو شخص غازی کے گھر بار کی خیر کے ساتھ دیکھ بھال کرے، وہ بھی اس اجر میں شریک ہوتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ہر شخص ایک ہی انداز سے خدمت نہیں کر سکتا، مگر نیکی کے راستے میں مدد کے کئی دروازے ہیں۔ کوئی خود میدان میں جا سکتا ہے، کوئی سامان دے سکتا ہے، اور کوئی گھر والوں کی خبر گیری کر سکتا ہے۔ اصل بات خیر خواہی، امانت اور اللہ کی راہ میں تعاون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غازی کو سامان دینے کی حدیث اردو میں بہت تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غازی کو سامان دینا اجر کا کام ہے۔
  • مجاہد کے گھر والوں کی خیر خواہی بھی نیکی میں شامل ہے۔
  • دینی کاموں میں تعاون مختلف صورتوں میں ہو سکتا ہے۔
  • مدد کرنے والا بھی خیر کے کام میں شریک ہو جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں