صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۳ - مجاہد کی مدد بھی جہاد کا حصہ
مجاہد کی مدد بھی جہاد کا اجر دلا سکتی ہے
صحیح مسلم : ۴۹۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۳
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا " .
زید بن خالد جہنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سامان دیا کسی غازی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں، اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر بار کی خبر رکھی اس نے جہاد کیا۔“ (یعنی ثواب جہاد کا اس نے کمایا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی معنی بیان ہوئے ہیں کہ جس نے غازی کو سامان دیا، اس نے بھی جہاد کیا، اور جس نے غازی کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی، اس نے بھی جہاد کیا۔ حدیث کا انداز بہت مختصر ہے، مگر پیغام بہت واضح ہے۔ اللہ کی راہ میں تعاون صرف خود نکلنے تک محدود نہیں۔ کبھی کسی کو سواری، سامان، خرچ یا ضرورت کی چیز دینا بھی بڑا نیک عمل بن جاتا ہے۔ اسی طرح پیچھے رہ کر گھر والوں کی خبر گیری کرنا بھی خیر کا کام ہے، بشرطیکہ یہ کام امانت اور بھلائی کے ساتھ ہو۔ اس حدیث میں غازی کو سامان دینے کا ثواب اور مجاہد کے گھر کی خدمت دونوں باتیں آتی ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ نیکی کے کام میں دوسروں کا سہارا بنے، مگر اس حدیث سے باہر کوئی اضافی حکم یا دعویٰ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غازی کو تیار کرنے والا اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔
- مجاہد کے اہل خانہ کی بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال اہم ہے۔
- نیکی صرف سامنے نظر آنے والے کام کا نام نہیں۔
- دوسروں کی دینی کوشش میں مدد کرنا خیر کا ذریعہ ہے۔
