صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۴ - ہر دو میں سے ایک کا نکلنا

ہر دو میں سے ایک نکلے: اجر میں شرکت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۴

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَقَالَ : " لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا " ،

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بنی لحیان کی طرف بھیجا جو ہذیل قبیلہ کی ایک شاخ ہے اور فرمایا:“ ”دو مردوں میں ایک مرد نکلے ہر گھر میں سے اور ثواب دونوں کا ہو گا۔“ (ایک کو جہاد کا اور دوسرے کو مجاہد کے گھربار کی خبر گیری کا)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا کہ دو مردوں میں سے ایک مرد نکلے، اور اجر دونوں کا ہو گا۔ روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک خاص موقع پر لوگوں کو ترتیب کے ساتھ بھیجا گیا، تاکہ ایک شخص جائے اور دوسرا پیچھے رہ کر ذمہ داری سنبھالے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دینی کاموں میں نظم، ذمہ داری اور باہمی تعاون اہم ہیں۔ ہر شخص ایک ہی وقت میں ایک ہی کام نہیں کرتا، مگر اگر کام اللہ کی رضا کے لیے ہو اور پیچھے رہنے والا اپنی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھائے تو وہ اجر میں حصہ پا سکتا ہے۔ اس حدیث کو مجاہد کے گھر بار کی خبر گیری، جہاد میں تعاون، اور نیکی میں حصہ داری کے موضوع پر پڑھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی کاموں میں نظم اور تقسیم کار کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
  • کچھ لوگ آگے بڑھ کر کام کرتے ہیں اور کچھ پیچھے ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
  • حدیث میں اجر دونوں کے درمیان بیان کیا گیا ہے۔
  • پیچھے رہنے والے کی ذمہ داری بھی خیر کے ساتھ ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں