صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۶ - اسی سند سے اجر کی روایت
اسی معنی کی روایت: جہاد میں تعاون اور ذمہ داری
صحیح مسلم : ۴۹۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۶
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَي بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یحییٰ روایت:
یحییٰ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان ہوئی ہے۔ اس لیے اس کی تعلیم بھی اسی دائرے میں ہے کہ ایک خاص موقع پر لشکر بھیجا گیا، لوگوں کو نکلنے اور پیچھے رہنے کی ذمہ داری کے ساتھ دیکھا گیا، اور اجر کا تعلق دونوں سے بیان ہوا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ دین کے کام میں تعاون کئی طرح سے ہوتا ہے۔ جو شخص جا رہا ہے، اسے بھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اور جو پیچھے رہتا ہے، اس پر بھی امانت اور خیر خواہی کی ذمہ داری آتی ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے وقت یہ خیال رہے کہ متن مختصر ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رہے۔ مجاہد کے گھر بار کی خبر گیری، غازی کی مدد، اور نیکی میں تعاون اس کے اہم تلاش کیے جانے والے موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختصر روایت کو پچھلی حدیث کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- دینی کاموں میں تعاون کئی شکلوں میں ہو سکتا ہے۔
- پیچھے رہنے والا شخص امانت کے ساتھ ذمہ داری نبھائے۔
- حدیث کے الفاظ سے زائد دعویٰ نہیں کیا جانا چاہیے۔
