صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۵ - لشکر میں شرکت اور اجر

لشکر میں شرکت اور پیچھے رہنے والے کا اجر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۵

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا بِمَعْنَاهُ ،

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۵ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کے ساتھ آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا۔ چونکہ متن میں باقی حدیث اسی طرح بتائی گئی ہے، اس لیے اس کا بنیادی سبق بھی وہی ہے جو پہلے بیان ہوا: دینی کام میں ایک شخص آگے جا کر حصہ لیتا ہے، اور دوسرا پیچھے رہ کر ذمہ داری نبھاتا ہے۔ حدیث میں اجر کی شرکت کا پہلو نمایاں ہے، مگر اسے اسی خاص بیان کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر حالت میں ہر کام کا اجر برابر ہو گا، بلکہ یہاں لشکر اور گھر بار کی خبر گیری کا خاص معاملہ ہے۔ اس روایت کے لیے لوگ عموماً جہاد میں تعاون، لشکر کی حدیث، اور مجاہد کے گھر والوں کی خدمت جیسے الفاظ تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کو پچھلی روایت کے معنی کے ساتھ سمجھا جائے گا۔
  • لشکر کے کام میں نظم اور ذمہ داری کا پہلو موجود ہے۔
  • پیچھے رہنے والے کی خدمت بھی خیر کا کام بن سکتی ہے۔
  • اجر کے معاملے میں حدیث کے الفاظ سے آگے بات نہ بڑھائی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں