صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۴ - تھوڑا عمل زیادہ اجر
تھوڑا عمل زیادہ اجر: ایمان اور شہادت کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ كَثِيرًا " .
سیدنا براء روایت:
ایک شخص بنی نبیت کا (جو انصار کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور کہنے لگا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے پیغام پہنچانے والے ہیں، پھر آگے بڑھا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس نے عمل تھوڑا کیا پر ثواب بہت پایا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص بنی نبیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر وہ آگے بڑھا، لڑتا رہا اور مارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اس نے عمل تھوڑا کیا اور اجر بہت پایا۔ اس حدیث کا اصل موضوع ایمان، سچا اقرار، اور اللہ کی راہ میں جان دینے کا واقعہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کبھی انسان کی زندگی میں عمل کا وقت کم ہوتا ہے، مگر وہ ایمان اور سچائی کے ساتھ بڑا فیصلہ کر لیتا ہے۔ حدیث میں یہی خاص واقعہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر ہر شخص کے لیے کوئی خود ساختہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کا سچا اقرار بہت اہم ہے۔
- اس صحابی نے ایمان کے بعد فوراً عمل کیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کم عمل اور زیادہ اجر کا ذکر فرمایا۔
- حدیث ہمیں عمل کے موقع کو سنجیدگی سے لینے کا سبق دیتی ہے۔
