صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۶ - تلواروں کے سائے تلے جنت
جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں
صحیح مسلم : ۴۹۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۶
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ .
سیدنا عبداللہ بن قیس روایت:
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے روایت کیا، وہ دشمن کے سامنے تھے اور کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے دروازے تلواروں کے سایوں تلے ہیں۔“ یہ سن کر ایک شخص اٹھا غریب میلا کچیلا اور کہنے لگا۔ اے ابوموسیٰ! تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ سن کر وہ اپنے یاروں کی طرف گیا اور کہا: میں تم کو سلام کرتا ہوں اور اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا، پھر تلوار لے کر دشمن کی طرف گیا اور مارا دشمن کو یہاں تک کہ شہید ہوا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ دشمن کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ جنت کے دروازے تلواروں کے سایوں تلے ہیں۔ ایک سادہ حال شخص نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں، تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا، انہیں سلام کہا، اپنی تلوار کا نیام توڑ دیا اور دشمن کی طرف بڑھ گیا۔ وہ لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اس حدیث کا موضوع شہادت، یقین، اور اللہ کی راہ میں ثابت قدمی ہے۔ یہاں جوش کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات بھی ہے کہ اس شخص نے پہلے بات کی تصدیق کی، پھر عمل کیا۔ اس لیے حدیث کو سمجھتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر یقین اور عمل کی سنجیدگی دونوں پہلو سامنے رہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بات سن کر اس شخص نے پہلے اس کی تصدیق کی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر یقین نے اسے عمل پر آمادہ کیا۔
- حدیث میں شہادت اور ثابت قدمی کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- دینی بات پر عمل علم اور یقین کے ساتھ ہونا چاہیے۔
