صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۷ - قراء کی شہادت اور خدمت

قراء کی شہادت: قرآن، سنت اور خدمت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ، قَالَ : وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ ، فَقَالَ : حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا : اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا " .

سیدنا انس روایت:

کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ چند آدمی کردیجیئیے جو ہم کو قرآن اور حدیث سکھلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری آدمیوں کو کر دیا جن کو قراء (قاری کی جمع یعنی قرآن پڑھنے والے) کہتے تھے، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے۔وہ لوگ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور رات کو قرآن مجید کی تحقیق کرتے سیکھتے اور دن کو پانی لا کر مسجد میِں رکھتے اور لکڑیاں اکٹھی کرتے پھر اس کو بیچتے اور کھانا خریدتے صفہ والوں اور فقیروں کے لیے۔ (صفہ مسجد میں ایک مقام تھا پٹا ہوا اس میں ستر آدمی رہتے تھے جو محض بے معاش اور متوکل تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔انہوں نے راستہ میں ان کا مقابلہ کیا اور ان کو قتل کیا (یعنی ان لوگوں کو جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کر دیا تھا) اپنے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے۔ انہوں نے (مرتے وقت) کہا: یا اللہ! ہمارے نبی کو پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، اور راضی ہیں تجھ سے اور تو ہم سے راضی ہے۔ ایک شخص (کافروں میں سے) حرام کے پاس آیا (جو ماموں تھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے) اور برچھا مارا ان کے ایسا کہ پار ہو گیا۔ حرام نے کہا: میں مراد کو پہنچ گیا قسم ہے کعبہ کے مالک کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی مارے گئے اور انہوں نے یہ کہا کہ یا اللہ! ہمارے نبی کو خبر کر دے کہ ہم تجھ سے مل گئے اور تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔“ (یہ خبر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خبر دی)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ ایسے آدمی بھیج دیجیے جو ہمیں قرآن اور سنت سکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری قراء کو بھیجا۔ وہ رات کو قرآن پڑھتے، سیکھتے اور باہم پڑھتے تھے۔ دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے، لکڑیاں جمع کرتے، انہیں بیچتے اور اس سے اہل صفہ اور فقیروں کے لیے کھانا خریدتے۔ راستے میں ان پر حملہ ہوا اور وہ شہید کر دیے گئے۔ انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے نبی کو خبر پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملے، ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ان کی خبر دی۔ اس حدیث میں علم، خدمت، قربانی اور شہادت ایک ساتھ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن اور سنت سکھانا ایک بڑی خدمت ہے۔
  • قراء رات کو علم حاصل کرتے اور دن کو لوگوں کی خدمت کرتے تھے۔
  • اہل صفہ اور فقیروں کی مدد ان کے عمل میں شامل تھی۔
  • شہادت کے وقت انہوں نے اللہ سے راضی ہونے کا پیغام بھیجا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں